Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ناد علی حدیث سے ثابت ہے؟ ناد علی کی حقیقت
Answer (beginning)
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے نادِ علی پڑھی گئی ہو ، اس کا ثبوت تو کتب حدیث سے نہیں ملا، البتہ بعض مشائخ طریقت کے وظائف سے اس کا ثبوت ملتا ہے، لہذا اسے پڑھ سکتے ہیں، شرعاً ممانعت کی کوئی وجہ نہیں اور بعض لوگ صرف اس لیے اس سے منع کرتے ہیں کہ اس میں لفظ ”یا کے ساتھ خطاب کر کے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی گئی ہے اور غیر اللہ سے مدد طلب کرنا درست نہیں، حالانکہ اُن کا یہ کہنا قرآن و حدیث کے واضح ارشادات کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کے نیک و برگزیدہ بندوں مثلاً انبیاء (علیہم السلام)و اولیاء ( علیہم الرحمہ ) وغیر ہم سے مدد مانگنے کا جواز ثابت ہوتا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.