Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلے جانے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص نماز وتر کی تیسری رکعت میں قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے، تو اسے قنوت پڑھنے کے لیے قیام کی طرف لوٹنا جائز نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ وہ قنوت پڑھے بغیر نماز مکمل کرے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے، البتہ اگر ایسا شخص قنوت پڑھنے کے لیے قیام کی طرف لوٹ آیا، تو اصح قول کے مطابق وہ گناہ گار ہو گا، مگر اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، لیکن یہ بات یاد رہے کہ ما شخص قنوت پڑھنے کے بعد دوبارہ رکوع نہیں کرے گا، بلکہ رکوع کیے بغیر نماز مکمل کر کے آخر میں سجدۂ سہو کرے، اگر جان بوجھ کر اُس نے دوبارہ رکوع کر لیا، تو اب سجدہ سہو کافی نہیں ہو گا، بلکہ یہ رکوع عمداً ( جان بوجھ کر سجدے میں تاخیر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.