Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں اگر اپنی نابالغ بچی کو سونا گفٹ کرے، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں وہ سونا بچی کی ملک ہو گیا اور اب اس کی مالک وہ بچی ہی ہے ، کیونکہ نابالغ بچے کا جب باپ فوت ہو گیا ہو اور اس کا کوئی وصی بھی نہ ہو اور بچے کا ولی ( یعنی سر پرست ماں وغیرہ) کوئی چیز اس کو گفٹ کرے، وہ چیز اُس گفٹ کرنے والے سر پرست کے اپنے پاس رکھی ہو یا اس نے کسی کو امانت رکھوائی ہو ، بہر صورت سرپرست کے زبانی عقد کر لینے سے ہی وہ چیز اس بچے کی ملک ہو جاتی ہے ، لہذا اب ماں یا کوئی اور ، بلکہ بچی خود بھی جب تک نابالغ ہے ، وہ سونا کسی کو نہیں دے سکتی، کیونکہ نابالغ کی چیز نہ اس کا سر پرست کسی کو ہبہ کر سکتا ہے ، نہ وہ نابالغ خو د ہبہ کر سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.