Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دن کے نوافل میں امام قراءت بلند آواز سے کرےگا یا آہستہ؟

Answer (beginning)

دن کے نوافل مثلاً اشراق و چاشت وغیرہ میں تلاوت سری طور پر یعنی آہستہ آواز میں کرنا واجب ہے۔ اگر امام اِن میں ایک آیت کی مقدار بھول کر بلند آواز سے تلاوت کر جائے، تو اس پر سجدہ سہو واجب ہے۔ اگر بلا عذر شرعی سجدہ سہونہ کیا یا ایک آیت قصد أبلند آواز سے پڑھی اگر چہ بر بنائے جہالت ہی کیوں نہ ہو، تو نماز کا اعادہ واجب ہے، البتہ اگر ایک آیت سے کم مثلاً ایک آدھ کلمہ بآواز بلند نکل جائے ، تو راجح مذہب کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں ایک آیت کی مقدار وہی ہے جتنی مقدار میں تلاوت کر لینے سے قراءت کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.