Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلاق کے بعد جہیز، زیورات و دیگر سامان کی واپسی کا حکم
Answer (beginning)
گا کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ ردالمحتار میں علامہ شامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: "كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها “ یعنی ہر ایک جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہے لہذا جب شوہر اسے طلاق دیدے تو وہ تمام جہیز لے لے گی اور جب عورت مر جائے تو جہیز میں وراثت جاری ہو گی۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الطلاق ، ج 5، ص302، مطبوعہ کوئٹہ) فتاوی رضویہ میں ہے: ” جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص ملک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہوئی تو گل لے گئی، اور مرگئی تو اس کے ورثاء پر تقسیم ہو گا“ (فتاوی رضویه، ج 12، ص 203، رضا فاؤنڈیشن،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.