Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی گود لینےکے شرعی احکام
Answer (beginning)
قوانین شرعیہ کے مطابق بچے یا بچی کو بطورِ ولدیت حقیقی والد کے علاوہ گود لینے والے یا اس کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا سخت ناجائز و حرام ہے، کیونکہ گود لینے سے حقیقت نہیں بدلتی اور لے پالک بچہ و بچی بدستور اپنے باپ کی اولا د رہتے ہیں ، لہذا صورت منتفسرہ میں قانونی دستاویزات مثلاً : شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ، یونہی زبانی پکارنے میں ولدیت کی جگہ پر اس بچی کے حقیقی باپ ہی کا نام بولنا اور لکھنا ضروری ہے، گود لینے والے کا نام بطور والد بولنے یا لکھنے کی ہر گز اجازت نہیں، البتہ بطورِ سر پرست اس کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.