Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کام کاج کرنے والی خواتین کو زکوٰۃ بتا کر دینا؟
Answer (beginning)
گھر میں کام کاج کرنے والی خاتون اگر فقیر شرعی ہے ، تو اسے زکوۃ، صدقات واجبہ (صدقہ فطر و نذر و کفاره و غیره) اور نفلی صدقات دیے جاسکتے ہیں اور اگر کام کرنے والی وہ خاتون فقیر شرعی نہیں ، تو اسے زکوۃ اور صدقات واجبہ نہیں دے سکتے ، ان کے علاوہ نفلی صدقہ دے سکتے ہیں اور صدقہ چاہے زکوۃ ہو یا کوئی سا بھی، بغیر بتائے بھی مستحق کو دیا جا سکتا ہے، دینے والے کی نیت کافی ہے۔ اللہ عزوجل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسْكِينِ - - - ترجمہ کنز الایمان : "زكوة (پاره 10، سورة التوبه، آیت (60) 66 تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار ۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.