Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایڈوانس زکوۃ نکالنے کا حکم
Answer (beginning)
زکوۃ سال پورا ہونے سے پہلے دی جاسکتی ہے، لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ زکوۃ دینے والا ز کوۃ کی پیشگی ادائیگی کرتے وقت نصاب کا مالک ہو اور سال پورا ہونے پر بھی نصاب کا مالک رہے۔ اگر سال پورا ہونے پر اس کے پاس نصاب کی قدر مال نہ رہا یا سال پورا ہونے سے پہلے نصاب مکمل طور پر ہلاک ہو گیا، تو پہلے دی ہوئی زکوۃ نفل ہو جائے گی۔ چونکہ زکوۃ سال مکمل ہونے سے پہلے بھی دی جاسکتی ہے، لہذا صاحب نصاب یوں بھی کر سکتا ہے کہ دورانِ سال تھوڑی تھوڑی کر کے زکوۃ ادا کر تا رہے اور سال مکمل ہونے پر اپنے اوپر واجب ہونے والی مقدار کا حساب لگائے، جو مقدار حاصل ہو، اگر اس کے برابر زکوۃ ادا کر چکا ہو ، تو وہ اپنا واجب ادا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.