Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پندرہ شعبان المعظم کی شب نفل نماز کی جماعت کا حکم

Answer (beginning)

فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت یقینا رب تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ کل بروز قیامت فرائض کی کمی بھی نوافل سے پوری کی جائے گی۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے: ” ولا يزال عبدي يتقرب الى بالنوافل حتى احببته “ ترجمہ: اللہ عز وجل ارشاد فرماتا ہے کہ میرا بندہ نوافل کی کثرت سے میرا قرب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں۔ (صحيح البخارى، كتاب الرقاق، باب التواضع ، ج 2، ص 963 ، مطبوعه (کراچی) اور جامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ان اول مــا يــحـاسـب بـه الـعـبـد يـوم الـقـيـامة من عمله صلاته،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.