Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لاٹری کے ذریعے خرید و فروخت
Answer (beginning)
قوانین شرع کی رو سے جو چیز خریدی جارہی ہے ، اس کے بارے میں متعین طو پر علم ہو ناضروری ہے کہ وہ ہے کیا ؟ مجہول چیز کو خرید نا، جائز نہیں، بلکہ ایسی خرید و فروخت فاسد ہوتی ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بند پیکٹ میں کیا ہے، خریدتے وقت نہ خریدار کو معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی دکاندار بتاتا ہے، بلکہ ممکن ہے اسے بھی معلوم نہ ہو، لہذا سوال میں درج پروڈکٹ خریدنا، ناجائز و گناہ ہے۔ بیع کے صحیح ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(وشرط لصحته معرفة قدر) مبيع وثمن “ یعنی خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لئے شمن اور مبیع کی مقدار معلوم ہو نا شرط ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.