Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دنياوی تعليم کی وجہ سے جماعت چھوڑنا کيسا؟‎

Answer (beginning)

مسلمان صحیح و بالغ پر مسجد محلہ کی جماعت اولی میں شرکت شرعاً واجب اور بلا عذر شرعی اسے ترک کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ تو جب آپ کے اسکول کے قریب محلے کی مسجد موجود ہے ، تو محض دنیاوی تعلیم کی مشغولیت اس مسجد کی جماعت اولی چھوڑنے کے لئے شرعی عذر نہیں ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (جلد 1، صفحہ 303)، سنن دار قطنی (جلد 2، صفحہ 292)، المستدرک للحاکم (جلد 1، صفحہ 373)، السنن الكبرى للبيهقی (جلد 3، صفحہ 81)، معرفة السنن والآثار (جلد 4، صفحہ 104)، کنز العمال ( جلد 4، صفحہ 426) اور مصنف عبد الرزاق میں ارشاد نبوی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم ہے: ( واللفظ للآخر) " لا صلاة لجار المسجد الا في المسجد.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.