Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
’’اگر کبھی تو میری اجازت کے بغیر میکے گئی ،تو تجھے طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے‘‘ بیوی کو یہ الفاظ بولے تو حکم
Answer (beginning)
آپ کی جانب سے بیوی کے متعلق جو تعلیق کے الفاظ بولے گئے ، اس میں طلاق کے الفاظ حرف عطف سے خالی ہیں اور قوانین شرعیہ کے مطابق مدخولہ عورت کے لیے حرف عطف کے بغیر طلاق کے الفاظ بولنے کی صورت میں صرف ایک طلاق معلق ہوتی ہے ، باقی منجز یعنی فوراً واقع ہو جاتی ہیں، لہذا صورت مستنفسرہ میں صرف پہلی طلاق معلق ہوئی ، بقیہ دو طلاقیں فوراً واقع ہو گئیں اور الفاظ چونکہ صریح ہیں ،لہذا دور جعی طلاقیں 1 واقع ہوئیں۔ طلاق رجعی کے حکم کے مطابق آپ عورت سے اس کی عدت میں بغیر اس کی رضامندی کے بھی رجوع کر سکتے ہیں اور عدت کے بعد عورت کی رضامندی سے دوبارہ اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.