Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام صاحب ثناء پڑھ کر رکوع میں چلے گئے اور مقتدی نے لقمہ دیا ،تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں مقتدی نے جو لقمہ دیا وہ درست، بر محل اور مفید تھا، لہذا اس لقمے کی وجہ سے نہ اس کی نماز میں کوئی خلل آیا اور نہ ہی اس لقمہ کو لینے کی وجہ سے امام کی نماز میں کوئی خلل آیا، اور سب کی نماز درست ہو گئی۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ امام کو لقمہ دینا در اصل امام سے کلام کرنا ہے اور قیاس کے مطابق لقمے کی ہر صورت میں نماز فاسد ہونی چاہیے ، لیکن ہمارے فقہائے کرام نے دو مواقع پر لقمہ دینے کو خلاف قیاس جائز رکھا ہے۔ وہ دو مواقع یہ ہیں: (1) ایسا موقع کہ جہاں لقمہ دینا نص سے ثابت ہو ، اس موقع پر لقمہ دیا جائے، تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.