Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز عصر مغرب سے بیس منٹ پہلے (مکروہ وقت میں ) پڑھی تو کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
بلا عذر شرعی نماز عصر کی ادائیگی میں اس قدر تاخیر کرنا، کہ مکر وہ وقت شروع ہو جائے، مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، لیکن یہ یادر ہے کہ یہ کراہت صرف تاخیر کرنے میں ہے اور جہاں تک نماز کی ادائیگی کا معاملہ ہے ، تو اس میں کوئی کراہت نہیں آئے گی، اسی کی معتبر متون و شروح و فتاوی میں تصریح فرمائی گئی ہے اور واجب الاعادہ وہ نماز ہوتی ہے ، جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے ، اور اس دن کی عصر اس وقت میں ادا کی گئی، تو وہ کراہت تحریمی کے ساتھ ادا نہیں ہو گی، لہذ اواجب الاعادہ بھی نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.