Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا کنیت رکھنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
مردو عورت ، دونوں کے لیے کنیت رکھنا مستحب اور اچھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سے زائد نیتیں تھیں اور آپ علیہ الصلاة والسلام صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین کی کنیتیں رکھا کرتے تھے اور اچھی کنیت سے پکارنے کو پسند فرماتے تھے۔ بہتر یہ ہے کہ اولاد میں سے سب سے بڑے بیٹے کے نام پر اور بیٹا نہ ہو تو بڑی بیٹی کے نام پر کنیت رکھی جائے۔ معجم الكبير للطبرانی میں ہے: ” كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه أن يدعو الرجل بأحب أسمائه إليه وأحب كناه “ ترجمه : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ کسی بھی شخص کو اس کے پسندیدہ نام اور محبوب کنیت سے پکارا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.