Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سال پورا ہونے سے پہلے قرض چڑھ گیا تو زکوۃ کا حکم؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ کے مطابق ماہ شوال میں اگر چہ زید پر اس کے پاس موجود در قم سے زیادہ قرض آگیا، لیکن اس قرض کی وجہ سے اس کی زکوۃ کا سال جو رجب سے شروع ہے وہ ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ ابھی بھی جاری ہے۔ لہذا یکم رجب والے دن زید اپنا حساب کرے گا۔ اگر یکم رجب کو زید کا سارا قرض ختم ہو چکا، یا قرض اتنا کم رہ گیا کہ اسے مائنس کرنے کے بعد زید کے پاس نصاب کے برابر یاز یاد ور تم بہتی ہے، تو پھر زید پر لازم ہو گا کہ یکم رجب کو جتنی بھی رقم قرض کے بعد بچتی ہے، اس پر زکوۃ ادا کرے اور اس کی زکوۃ کا سال بدستور کیکم رجب سے کیم رجب تک چلتا رہے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.