Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صدقہ فطر عید سے پہلے یا بعد میں ادا کرنا؟
Answer (beginning)
صدقہ فطر عید سے پہلے، بلکہ رمضان سے بھی پہلے ادا کیا جا سکتا ہے۔ جاسکتا وو محیط برہانی میں ہے: ” یجوز تعجیلھا قبل يوم الفطر بيوم او يومين في رواية الكرخي وعن ابي حنيفة لسنة أو سنتین ترجمہ: امام کرخی رحمہ اللہ کے نزد یک صدقہ فطر کو عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کرنا، جائز ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک یا دو سال پہلے ادا کرنا، جائز ہے۔ (محیط برهانی، جلد 2، ص 589 ، مطبوعه (کوئٹہ) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”فطرہ کا مقدم کرنا مطلقاً جائز ہے، جب کہ وہ شخص موجود ہو جس کی طرف سے ادا کر تا ہو ، اگر چہ رمضان سے 1 پیشتر ادا کر دے اور اگر فطرہ ادا کرتے وقت…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.