Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے کے تعمیر و اخراجات پر زکوٰۃ لگانا کیسا؟
Answer (beginning)
کسی فقیر شرعی کو مالک بنائے بغیر بر اور است مدرسے کے اخراجات و تعمیرات پر زکوة کی رقم ، اینٹیں یا سیمنٹ وغیرہ لگانے سے زکوۃ ادا نہیں ہو گی، کیونکہ تملیک فقیر یعنی شرعی فقیر کو زکوۃ کا مالک بنانا، زکوۃ کا رُکن اور بنیادی شرط ہے، جب کہ براہ راست مدرسے کے اخراجات و تعمیرات پر زکوۃ کی رقم ، اینٹیں یا سیمنٹ وغیرہ لگانے میں فقیر شرعی کو مالک بنانا نہیں پایا جاتا، لہذا جب بنیادی شرط ہی نہیں پائی جائے گی ، تو زکوۃ بھی ادا نہ ہو گی، البتہ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ کسی فقیر شرعی کو بہ نیت زکو در قم یا دیگر سامان کا مالک بنا دیا جائے ، پھر وہ اپنی طرف سے مدرسے کے جملہ مصارف میں استعمال کرنے کی اجازت سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.