Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد کے چندے سے تراویح پڑھانے کی اجرت دینا کیسا ؟
Answer (beginning)
صورتِ مسئولہ میں اولاً یہ جان لیں کہ حافظ صاحب کا تروایح پڑھانے کے بدلے اجرت لینا یا اجرت تو طے نہ کی ہو، مگر انتظامیہ کو معلوم ہو کہ تراویح کے بعد کچھ دینا ہے اور حافظ صاحب کو بھی معلوم ہو کہ کچھ ملے گا، تو ان دونوں صورتوں میں لینا اور دینا جائز نہیں ، نہ مسجد کے چندے سے اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اور رقم سے ، ہاں اگر تراویح پڑھانے والا وقت کا اجارہ کرلے ، تو وقت کے مطابق اس کا اجرت لینا جائز ہے، البتہ اس اجرت کو مسجد کے چندے سے دینے میں تفصیل درج ذیل ہے: مساجد کے مصارف کے لیے جمع ہونے والی رقم عموماً دو طرح کی ہوتی ہے: (1) وقف 1 کی آمدنی(2)لوگوں کے عطیات۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.