Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ کا مستحق کون؟ مستحق زکوٰۃ کی تحقیق کا حکم؟
Answer (beginning)
زکوۃ کی ادائیگی کے لیے شریعت مطہرہ نے کبھی بھی تفتیش و کریدنے کا حکم نہیں دیا بلکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے اتنا کافی ہے کہ جسے زکوۃ دے رہے ہیں، اس کے مستحق زکوۃ ہونے کا ظن غالب ہو ۔ ظن غالب کا حصول مختلف طریقے سے ہو سکتا ہے، جس میں اس شخص کی ظاہری حالت ، اس شخص کا فقیروں کی صف میں بیٹھنا، یاز کوۃ مانگنا وغیرہ کوئی بھی طریقہ ہو سکتا ہے، بس یہ ضروری ہے کہ زکوۃ دیتے وقت مستحق زکوۃ ہونے کا گمان غالب ہو۔ کسی کو 1 مستحق زکوۃ سمجھ کر زکوۃ دے دی، بعد میں معلوم ہو گیا کہ یہ شخص مستحق زکوۃ نہیں تھا، تو عمومی صورت حال میں زکوۃ ادا ہو گئی، اب دوبارہ زکوۃ ادا کرنے کی حاجت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.