Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نابالغ سمجھدارلڑکا نماز میں لقمہ دے سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آیت چھوٹنے کی وجہ سے اگر چہ معنی میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی، لیکن چونکہ یہ قراءت میں غلطی تھی، لہذا یہاں لقمہ دینا منصوص ہونے کی وجہ سے ۔ درست تھا۔ اسی طرح لقمہ دینے والا نا بالغ سمجھدار قریب البلوغ لڑکا ہے ،جب نماز کے افعال درست طریقہ سے ادا کر لیتا ہے، تو اس کے لقمہ دینے کی وجہ سے بھی نماز میں کوئی خرابی 1 پیدا نہیں ہوئی، اور نماز درست ادا ہو گئی۔ در مختار ، مفسدات نماز کے بیان میں ہے : ( وفتحه علی غیر امامہ)۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.