Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا تراویح کی وجہ سے روزے چھوڑنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
زید کا روزہ چھوڑنے کے لیے تراویح پڑھانے کا عذر ہر گز ہر گز درست نہیں ہے۔ ہر سال ہزاروں حافظ قرآن تراویح کی نماز پڑھاتے ہیں اور الحمد للہ وہ روزے بھی رکھتے ہیں، نیز وہ اپنی منزل کی دُہرائی بھی روزے کی ہی حالت میں کرتے ہیں، جون جولائی کے سخت گرم موسم میں بھی حفاظ کرام روزے رکھ کر تراویح کی تیاری کرتے ہیں۔ لہذا زید کو تراویح 1 پڑھانے کی خاطر روزہ چھوڑنا ہر گز ہر گز جائز نہیں، کیونکہ روزہ فرض ہے اور تراویح کی نماز میں قرآن پاک کا ختم کرنا سنت ہے۔ سنت کی خاطر فرض چھوڑنا ہر گز ہر گز جائز نہیں، ایسا کرنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا شخص فاسق و فاجر ، گناہ کبیرہ کا مرتکب اور درد ناک عذاب کا حقدار ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.