Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر کی جماعت میں تیسری رکعت میں شامل ہوا ، تو دعائے قنوت کا حکم

Answer (beginning)

سوال میں مذکور دونوں صورتوں میں ہی مسبوق وتر کی بقیہ رکعتیں ادا کرتے ہوئے دعائے قنوت نہیں پڑھے گا۔ تفصیل یہ ہے کہ مسبوق (جس کی امام کے ساتھ تمام یا بعض رکھتیں رہ جائیں ) کے بقیہ رکعتوں کو ادا کرنے کے متعلق اصول یہ ہے کہ وہ بقیہ رکعتیں ادا کرنے میں منفرد ہے ، امام کے سلام پھیرنے کے بعد بقیہ رکعتیں ادا کرتے وقت قراءت کے حق میں پہلی اور تشہد کے حق میں دوسری رکعت ادا کرے گا، لہذا جس شخص کو وتر میں امام کے ساتھ آخری رکعت ملی، 1 : وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر پہلی رکعت کی طرح ثنا، تعوذ و تسمیہ پڑھے اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی ملائے اور تشہد کے اعتبار سے یہ اس کی دوسری رکعت ہے ، اس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.