Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نصف شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا منع ہیں؟
Answer (beginning)
جواب جاننے سے قبل تمہید آیہ ذہن نشین کر لیجیے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت کی کثرت بلاشبہ باعث حصولِ برکات اور رب عزوجل کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے بالخصوص روزہ، تو اس کی جزا رب عزو جل خود عطا فرمائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام فرمانا ثابت ہے ، خاص طور پر ماہ شعبان میں اس قدر روزے رکھتے، گویا پورا ماہ ہی روزے میں گزرتا ، حتی کہ رمضان آجاتا، نیز رمضان کے بعد شعبان کے روزوں کو افضل قرار دیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف ہمیں نفلی عبادات کے ساتھ دیگر حقوق کا خیال رکھنے کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے اور وہ یوں کہ اگر نفلی روزے رکھنے کی وجہ سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.