Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج کرنے میں دیر کرنے اور ضعف کی وجہ سے حج بدل کا حکم؟

Answer (beginning)

جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے فرض حج کو ایک سال تک مؤخر کر نا گناہ صغیرہ اور چند سال تک تاخیر کرنا گناہِ کبیرہ ہے، لہذا اِس تاخیر پر توبہ کی جائے ۔ جب حج ادا کرنے پر قدرت ہو اور دیگر تمام شرائط موجود ہوں ، تو فورا یعنی اسی سال حج کی ادائیگی فرض ہے، نبی پاک صَلَّى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: فرض حج ادا کرنے میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ بعد میں اُسے کیا دشواری لاحق ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.