Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تراویح پڑھانےکی اجرت اورحیلے کا حکم

Answer (beginning)

(1) اصل یہ ہے کہ طاعات پر اجرت لینا اور دینا مطلقاً نا جائز ہے، سوائے ان چند چیزوں کے جن پر دینی ضرورت و مجبوری کی بنا پر متاخرین نے اجارہ کرنے کی اجازت دی ہے ، جیسے قرآن پاک، فقہ اور دینی علوم کی تعلیم ، اذان و امامت و غیر ہ کی اجرت لینا ضرورت کی بنا پر جائز ہے اور وعظ کی اجرت لینے کی بھی فی زمانہ اجازت ہے، لہذا صورت مسئولہ میں صرف لہذا 1 تراویح پڑھانے کی اجرت لینا اور دینا جائز نہیں ، اسی طرح جہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینا اور دینا طے نہیں ہوا، لیکن پتا ہے کہ ختم قرآن پر کچھ نہ کچھ روپے پیسے یاکسی اور صورت میں پتا ضرور دیا جائے گا، وہ بھی نا جائز و گناہ ہے، البتہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.