Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عبادات اور معاملات میں فاسد و باطل کا فرق
Answer (beginning)
اولاً عبادات اور پھر معاملات میں ”فاسد “ اور ”باطل کی مراد اور فرق کو بیان کیا جائے گا، تا کہ خلط مبحث نہ ہو۔ (1) جمہور اور بالخصوص فقہائے احناف کے نزدیک ”باب العبادات“ میں فاسد اور باطل کی مراد یکساں ہے، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، یعنی دونوں کا مرادی معنی ایک ہی ہے اور وہ اس فعل کا ” صحیح اور درست اند از پر نہ ہونا ہے ، لہذا اس بنیاد پر اُس عبادت کے متعلق ”فاسد “ یا ” با طل کسی ایک کا حکم لگا دیا جاتا ہے، چنانچہ ”باب العبادات“ میں فاسد اور باطل کی مراد یکساں ہونے کے متعلق علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَةُ الله تَعَالى عَلَيْهِ (سالِ وفات : 0970 / 1562ء) لکھتے ہیں: ”الفساد والبطلان في…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.