Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مسلسل نفلی روزے رکھنا منع ہے؟ والدین کی اجازت ضروری ہے؟

Answer (beginning)

) (1) فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت کی کثرت بلاشبہ باعث حصولِ برکات اور رب عزو جل کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے، بالخصوص روزہ! تو اس کی جزا رب عز و جل خود عطا فرمائے گا، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بالخصوص ماہ رجب و شعبان میں بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام فرمانا ثابت ہے اور دیگر کئی بزرگانِ دین سے بھی مسلسل روزے رکھنا منقول ہے، لہذا آج بھی اگر کوئی شخص لگا تار روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہو اور اس کی وجہ سے دیگر حقوق واجبہ و مستحبه (مثلاً : نماز، رزق حلال کا حصول، والدین کی خدمت، اولاد کی پرورش، اپنی صحت کی حفاظت، رشتہ داروں سے صلہ رحمی وغیرہ) میں کمی کی صورت نہ بنے اور ایام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.