Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کو غسل دینے کی اجرت لینا کیسا؟
Answer (beginning)
میت کو بغیر کسی اجرت کے غسل دینا افضل و بہتر ہے۔ اجرت لینے کے حوالے سے دو صورتیں ہیں:(1) اگر اس کے علاوہ کوئی اور بھی اس قابل ہو جو غسل دے سکے ، تو اجرت لینا جائز ہے۔ (2) اگر اس کے علاوہ کوئی اور اس قابل نہ ہو، صرف یہی غسل دے سکتا ہو، تو اجرت لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں اسی پر غسل دینا واجب ہے اور واجب پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ” ( والأفضل أن يغسل) الميت (مجانا، فإن ابتغى الغاسل الأجر جاز إن كان ثمة غيره وإلا لا) لتعینہ علیہ اور افضل یہ ہے کہ میت کو بلا اجرت غسل دے اور اگر غسل دینے والا اجرت چاہے، تو جائز ہے، جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور غسل دینے والا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.