Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک ٹانگ سے معذور شخص کی امامت کا حکم

Answer (beginning)

ایسا ٹانگ سے معذور شخص کہ جس میں امامت کی شرائط موجود ہیں، رکوع و سجود پر قادر ہے، نیز وہاں موجود افراد میں اُس سے زائد یا بر ابر طہارت اور نماز کے مسائل جانے والا موجود نہیں، تو اس کی امامت بلا کراہت جائز ہے اور اگر یہی شخص طہارت و نماز کے مسائل زیادہ جانتا ہے، تو اس کی امامت دیگر سے بہتر ہے اور اگر وہاں کوئی دوسرا ایسا فرد موجود ہے کہ جس کے اعضاء بھی کامل ہیں، امامت کی شرائط بھی موجود ہیں، نیز اس ٹانگ سے معذور کے برابر یا زائد مسائل نماز سے واقف ہے، تو ایسے فرد کی موجودگی میں ٹانگ سے معذور کا امامت کرنا خلاف اولیٰ ہے، البتہ مقتدیوں کی نماز پھر بھی ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.