Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے؟
- Fatwa no.
- 13751-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک نابالغ بچہ ہے، اس کی ملکیت میں سونا اور کیش موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کافی زیادہ ہے اور یہ مال اس کے والد نے بحفاظت اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ باپ نے اس کا صدقہ فطر ادا کرنا ہو ، تو کیا اس کے مال سے ادا کرے گا یا اپنے مال سے بھی اس کا صدقہ فطر ادا کر سکتا ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جس نابالغ بچے کی ملکیت میں حاجت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد مال موجود ہے ، تو صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے اس کا صدقہ فطر اسی کے مال میں واجب ہو گا، لہذا اس کے والد کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کر دے، البتہ اگر والد نے نابالغ کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کرنے کے بجائے، اپنے مال سے ادا کر دیا، تو بھی صدقہ فطر ادا ہو جائے گا کہ جو شخص عیال میں ہو ، اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کی صورت میں استحساناصدقہ فطر ادا ہو جاتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.