Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص کو زکوٰۃ دینا کیسا ؟

Fatwa no.
2874-Gul

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے کاروباری معاملات چلانے کے لئے بہت سارا سودی قرضہ لیا ہوا ہے۔ اب کاروباری نقصان کی وجہ سے اتنازیادہ سودی قرضہ چڑھ گیا ہے کہ زید کی ملکیت میں جتنا بھی سامان ہے وہ سارا قرض میں دے دیا جائے، تو زید کا سودی قرض نہیں اتارا جاسکتا۔ پوچھنا یہ ہے کہ زید کو زکوۃ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

سودی لین دین کرنا، ناجائز و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، لہذ اسودی لین دین سے توبہ واستغفار کرنالازم وضروری ہے، البتہ جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجات اصلیہ کے علاوہ نصاب کا مالک نہ رہے اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہ ہو تو ایسے مقروض شخص کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص، زید کو زکوۃ دینا جائز ہے جبکہ زکوۃ دینے والا ، زکوۃ لینے والے کے اصول و فروع میں سے نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.