Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفل روزہ ٹوٹ جائے تو دن کے باقی حصے میں کھا پی سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
روزہ دار ہونا یاد ہو اور کلی کرتے ہوئے غلطی سے پانی حلق سے نیچے اتر جائے، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اس روزے کی قضا لازم ہو گی۔ روزہ ٹوٹ جانے کے بعد نفل روزہ رکھنے والے پر بقیہ دن روزے دار کی طرح رہنا واجب نہیں ہو گا، بلکہ اُسے کھانے پینے کی شرعاً اجازت ہو گی، اس لیے کہ کھانے پینے سے رکے رہنا، اور روزے داروں کی مشابہت اختیار کرنے والا معاملہ صرف رمضان کے ادا روزوں کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ رمضان کے روزے خود ذات باری تعالی کی طرف سے فرض ہیں، اس کی حرمت اور تعظیم کے تقاضے کے پیش نظر اگر رمضان کا اداروزہ فاسد ہو جائے، تو روزے دار پر بقیہ دن امساک یعنی کھانے پینے سے رُک کر روزے داروں کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.