Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج بدل میں قربانی کا حکم؟

Fatwa no.
1787-JTL
Issued
08 ذی الحجۃ الحرام 1445ھ / 15 جون 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حج بدل کرنے والا ( جبکہ وہ کروانے والے کی اجازت سے حج تمتع کی صورت میں کر رہا ہو ، تو وہ حج کی قربانی اپنے نام پر کرے گا یا جس کے نام پر حج بدل کرنے گیا ہے، اس کے نام پر کرے گا؟ برائے مہربانی جواب ارشاد فرمادیں۔

Answer (beginning)

جو شخص حج بدل کروانے والے کی اجازت سے تمتع کی صورت میں حج بدل کر رہا ہو ، تو اس صورت میں وہ حج تمتع کی قربانی اپنے مال سے اپنے نام پر کرے گا، حج بدل کروانے والے کی طرف سے نہیں کرے گا، کیونکہ حج تمتع اور حج قران میں حاجی پر شکرانے کے طور پر جو قربانی لازم ہوتی ہے، تو وہ حج و عمرہ دونوں کو جمع کرنے کی وجہ سے لازم ہوتی ہے اور حج و عمرہ کو حقیقی لحاظ سے جمع کرنے والا یہی حاجی ہوتا ہے ، تو حج کا وقوع اگر چہ شرعی لحاظ سے حج بدل کروانے والے کی طرف سے ہوتا ہے ، مگر قربانی کا وجوب حقیقی لحاظ کے اعتبار سے ہے، اس لیے یہ حاجی پر اسی کے مال سے لازم ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.