Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

معذورِشرعی ایک نماز کا وقت نکلنے سے معذورِ شرعی نہ رہا، تو وضو بھی ٹوٹ جائے گا؟

Fatwa no.
2710 Aqs

Question

بھی ٹوٹ جائے گا؟ دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص چار پانچ دن سے شرعی معذور تھا اور ہر فرضی نماز کے وقت کے لیے وضو کر تا تھا۔ ایک دن عصر کی نماز کے لیے اس نے وضو کیا، لیکن مغرب تک نہ تو اس کا وہ عذر پایا گیا، جس کی وجہ سے وہ شرعی معذور ہوا تھا، نہ ہی کوئی اور ناقض وضو پایا گیا، یہاں تک کہ عصر کا وقت ختم ہو گیا۔ اب یہ تو معلوم ہے کہ یہ شخص شرعی معذور نہ رہا، لیکن پوچھنا یہ ہے کہ مغرب کی نماز کے لیے وضو کرنا اس پر لازم ہے یا عصر کی نماز کے لیے جو وضو کیا تھا، وہی وضو کافی ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس شخص کا عصر والا وضو ہی بر قرار ہے اور مغرب کی نماز کے لیے وہی کافی ہے، نیا وضو کرنا لازم نہیں ہے ، کیونکہ معذور شرعی کے لیے محض وقت کا نکلنا حقیقتا وضو توڑنے والی چیز نہیں، بلکہ اصل وضو کو توڑنے والی چیز وہ حدث ( یعنی پیشاب در یح و غیرہ کا نکلنا) ہے ، لیکن جب معذور شرعی نے وضو کیا اور اس وضو کے وقت یا اس کے بعد نہ وہ سبب پایا گیا، جس کی وجہ سے وہ معذور بنا تھا، نہ ہی اس کے علاوہ کوئی اور وضو توڑنے والی چیز پائی گئی، یہاں تک کہ پوری ایک فرض نماز کا وقت نکل گیا، تو اب یہ شخص معذور شرعی بھی نہیں رہے گا اور وضو توڑنے والی علت نہ پائے جانے کی وجہ سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا، لہذا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.