Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پاکستان اسلامی جمہوریہ کی بنیاد پر نہیں بنایا گیا؟
- Fatwa no.
- 12623 - Lhr
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سیکولر لوگ کہتے ہیں ”پاکستان اسلامی جمہوریہ کی بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ سیکولر ازم کی بنیاد پر بنایا گیا تھا لیکن بعد میں مولویوں نے اس پر اسلامی نام پر قبضہ کر لیا۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ اپنی دلیل میں وہ کہتے ہیں کہ 11 اپریل 1946 کو مسلم لیگ کنونشن دہلی میں تقریر کرتے ہوئے قائدا نے کہا: ہم کس چیز کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد تھیو کریسی نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں تھیو کریٹک اسٹیٹ چاہیے۔ مذہب ہمیں عزیز ہے، لیکن اور چیزیں بھی ہیں جو زندگی کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ مثلاً ہماری معاشرتی زندگی، ہماری معاشی زندگی اور بغیر سیاسی اقتدار کے آپ اپنے عقیدے یا معاشی زندگی کی حفاظت کیسے کر سکیں گے ؟“ 1946 میں رائٹرز کے نمائندے ڈول کیمبل کو انٹر ویو دیتے ہوئے قائد اعظم کا کہنا تھا: ”نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہو گی جس میں اختیارات کا سر چشمہ عوام ہو گی۔ نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ، ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔“
Answer (beginning)
سیکولر یہ ثابت کرنے کے لیے سر توڑ کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ سیکولر کے طور پر بنا تھا۔ سیکولر طبقے کے ایسے دلائل کہ محمد علی جناح صاحب ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے ، مضبوط نہیں ہیں۔ سیکولر جو اقتباسات پیش کرتے ہیں، ایک تو یہ مجمل اور قابل تاویل ہیں کہ محمد علی جناح صاحب ہر پاکستانی کے حقوق بیان کر رہے ہیں چونکہ پاکستان میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی رہتے تھے ، اس لیے محمد علی جناح نے ان کو بھی پاکستانی کہا، لیکن ان بیانات کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسلامی حکومت بنانے کو ناپسند کرتے تھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.