Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زنا یا ریپ کیسز کے اصل ذمہ دار کون؟
- Fatwa no.
- 12771-Lhr
- Issued
- 10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ جب ہمارے یہاں کوئی ریپ کیس ہو تا ہے اور علمائے کرام اس کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب پر بات کرتے ہیں، تو لبرل لوگ علماء پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات لبرل اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ کیا لبرل لوگوں کی یہ بات درست ہے ؟
Answer (beginning)
لبرل لوگوں کی یہ بات اس طور پر درست نہیں کہ پہلے یہ بے حیائی عام کر کے لوگوں کے جذبات بھڑ کاتے ہیں اور جب لوگ نفس کے ہاتھوں بے قابو ہو کر غلط راہ پر چلتے ہیں، تو پھر یہ مذمت کرتے ہیں، نیز ان کی مذمت بھی زبر دستی کی حد تک ہے، اگر رضامندی کے ساتھ کوئی عورت چاہے وہ کسی کی بیوی ہو ،ماں ہو یا بیٹی ہو وہ معاذ اللہ بد کاری کروائے ، تو اس پر ان کو اعتراض نہیں۔ یعنی ان کے اخلاقیات بھی عجیب و غریب ہیں۔ نیز جب معاشرے میں اس طرح کے واقعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے اسلامی سزائیں نافذ کرنے کا کہا جائے تو لبرل لوگوں کو اس پر بھی اعتراض ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.