Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک شخص کی زمین اور دوسرے کا خرچہ ہوتو مزارعت کا حکم
- Fatwa no.
- 8976-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر دو بندے یوں عقدِ مزارعت کریں که مالک زمین صرف زمین دے اور فریق ثانی یعنی مزارع تمام اخراجات اٹھائے، یعنی زمین تیار کرنے اور کٹائی کرنے والی لیبر کی تنخواہیں، ٹریکٹر کا کرایہ ، پٹرول، بیج، کھاد، اسپرے، تھریشر ، بجلی ، ٹیوب ویل اور دیگر تمام اخراجات مزارع ہی برداشت کرے گا۔ حاصل شدہ فصل کو فیصد کے اعتبار سے طے کریں گے ، مثلاً : 70 فیصد مزارع اور 30 فیصد مالک زمین کو حاصل ہو گا۔ کیا یہ طریقہ درست ہے ؟ اگر درست نہیں، تو جائز شرعی طریقہ بتادیں۔
Answer (beginning)
مزارعت کی بقیہ شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے دو افراد کا اِس انداز میں عقدِ مزارعت کرنا کہ ایک فرد صرف زمین دے گا اور دوسرا شخص یعنی مزارع سارے کام کرے گا اور جو اُن کاموں پر اخراجات آئیں گے ، وہ بھی تنہا مزارع اٹھائے گا۔ یہ عقد شرعاً درست ہے ، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اس حکم شرعی کی تفصیل یہ ہے کہ قولِ ظاہر الروایہ کے مطابق کھاد، اسپرے، کٹائی اور گہائی(Threshing) کے اخراجات طے شدہ نفع کے تناسب سے لازم آتے ہیں، یعنی جس کا جتنے فیصد نفع ہو گا، مذکورہ اشیاء کے اخراجات میں بھی اُسی تناسب سے حصہ شامل کیا جائے گا، لیکن امام ابو یوسف رَحْمَةُ الله تَعَالى عَلَيْهِ کی ایک روایت کے مطابق اگر عاقدین…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.