Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوہر طلاق کے بعد رجوع کرے، تو کیا عورت کا قبول کرنا ضروری ہے ؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 8975-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شوہر نے اپنی مدخولہ بیوی سے کہا: میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں صرف یہی بولا اور ایک ہی طلاق دی۔ اس سے پہلے کبھی طلاق نہیں دی۔ پھر تین دن بعد رجوع کی نیت سے یوں کہا کہ ”میں تم سے صلح کرتا ہوں لیکن عورت نے اس رجوع کو قبول نہیں کیا اور کیس (Case) کر دیا۔ تین سال یو نہی گزر گئے۔ اس عرصے میں خلع یا طلاق و غیر با کچھ نہیں ہوا۔ اب دونوں خاندان راضی ہیں اور یہ مرد و عورت اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور ان کا نکاح باقی ہے یا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب ایک طلاق رجعی کے تین دن بعد ، دورانِ عدت شوہر نے رجوع کی نیت سے اپنی بیوی کو یوں کہا: ” میں تم سے صلح کرتا ہوں تو یہ کہنے سے رجوع ہو گیا۔ بیوی کا رجوع کو قبول نہ کرنا یا مر د کے رجوع پر رضا مندی کا اظہار نہ کرنا، اِس ” رجوع “ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا، بلکہ شریعت کی نظر میں رجوع ثابت ہو چکا۔ اب جبکہ تین سال کا عرصہ دوریاں رہیں ، لیکن اس عرصے میں کوئی نئی طلاق نہیں ہوئی، تو ان دونوں کا نکاح باقی ہے، لہذا شرعاً مر دو عورت اکٹھے رہ سکتے ہیں، کہ وہ ایک دوسرے کے میاں بیوی ہیں۔ نئے نکاح کی ضرورت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.