Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچہ کتنا دودھ پیے، تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو گی؟ تفصیلی فتوی

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
8967-FSD
Issued
25 ذوالحجۃ الحرام 1445ھ / 02 جولائی 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عائشہ چھ ماہ کی تھی، اس وقت عائشہ کی خالہ نے اسے ایک یا دو گھونٹ اپنا دودھ پلایا تھا، اس سے زیادہ نہیں پلایا، اب عائشہ کا اس کی خالہ کے بیٹے سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ ہمیں بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ احادیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ ایک دو گھونٹ دودھ پینے سے رضاعت کا رشتہ ثابت نہیں ہوتا، بلکہ کم از کم پانچ گھونٹ پینا ضروری ہے، لہذا آپ رشتہ کر سکتے ہیں، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعی ایسی کوئی حدیث پاک ہے ؟ اور کیا ہم اس حدیث پاک کی رو سے رشتہ کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جب عائشہ نے اپنی خالہ کا دودھ پیا ہے، اگر چہ معمولی مقدار میں ہی پیا، تو اس کا نکاح اس کی خالہ کے بیٹے کے ساتھ نہیں ہو سکتا، یہ بات قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ، مفسرین، محدثین اور ائمہ مجتہدین رَحِمَهُمُ الله السلام کے اقوال سے ثابت ہے۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حرمت رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے ایک آدھ چسکی بھی کافی ہے، کیونکہ قرآنِ مجید میں جس جگہ رضاعت (بچے کے دودھ پینے ) کو حرمت کا سبب قرار دیا گیا، وہاں مطلق حکم بیان کیا گیا ہے ، نہ تو مدتِ رضاعت ( یعنی کتنی عمر تک دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی، اس کی وضاحت کی گئی اور نہ ہی دودھ کی مقدار کو بیان کیا گیا، البتہ قرآن مجید میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.