Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رسول اللہ ﷺ حاضر ناظر ہیں تو فرشتوں درود کیوں پہنچاتے ہیں؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ حدیث مبارک سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی صفت ”حاضر و ناظر “ پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں: اولاً یہ کہ سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ زید حاضر و ناظر کے درست معنی سے ناواقف ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ حاضر و ناظر کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیه و آله و سلم جسمانی طور پر ہر جگہ 1 موجود ہیں، حالانکہ اہل سنت کے نزدیک یہ معنی قطعا مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیه و آله و سلم اپنے جسم مبارک کے ساتھ روضہ اقدس میں تشریف فرما ہیں اور تمام کائنات آپ کے سامنے حاضر ہے ، جب چاہیں نظر فرما لیں اور اللہ پاک کی عطا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.