Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنازے میں تعداد بڑھانے کے لیے تاخیر کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

(1) محض لوگوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے نماز جمعہ کے بعد تک تدفین میں تاخیر کرنا سخت مکروہ و ممنوع ہے، کیونکہ احادیث میں کسی شخص کے انتقال کا یقین ہو جانے کے بعد اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے ، البتہ موت کا یقین ہونے ، قبر کی تیاری کرنے اور غسل و کفن وغیرہ کے ضروری انتظامات میں جو دیر لگتی ہے، اس کی اجازت ہے )، حتی کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: اگر جمعہ والے دن صبح کے وقت ہی جنازہ تیار ہو گیا، لیکن نماز جنازہ اور تدفین میں فقط اس لیے تاخیر کی کہ جمعہ کے بعد لوگ زیادہ ہو جائیں گے ، یہ بھی مکروہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.