Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن کریم کو رسم عثمانی کے علاوہ میں لکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6351-Lar
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چالیس روزہ قاری کورس کروا ر ہے ہیں ، اس کے لیے ہم مصحف شریف کی اس طرح کتابت کرواتے ہیں کہ اوپر قرآن پاک کا اصل متن رسم عثمانی کے انداز میں ہی تحریر ہوتا ہے اس کے نیچے ہر لفظ کے بجے لکھے جاتے ہیں مثلا ذلک الکتب لاریب فیہ۔ لکھنے کے بعد اس کے ہر حرف کے نیچے یوں تحریر ہوتا ہے : ذالک لکتاب، لا ریب ، فیہ۔ اور یہ اس لیے ہے تاکہ سیکھنے سکھانے میں آسانی رہے شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح تحریر کر کے ہم پرنٹ نکلوا سکتے ہیں؟ سائل : قاری محمد وسیم ( مصطفی آباد، لاہور)
Answer (beginning)
صورت مسئولہ کے مطابق قرآن پاک کے رسم میں تبدیلی کرنا شرما جائز نہیں ہے کہ اس میں رسم عثمانی کی مخالفت ہے اور رسم عثمانی توقیفی ہے جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا تعلیم فرمودہ ہے ، اس میں کسی امتی کی عقل کا کوئی دخل نہیں، اس رسم کے باقی رکھنے پر خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالی علیهم اجمعین ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ ، سلف صالح اور پوری امت کا اجماع ہے ، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مبارک زمانہ میں بھی اسلام عرب سے عجم میں پھیلا جہاں خواندہ و ناخواندہ ہر طرح کے لوگ تھے لیکن کہیں نہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی آسانی کے لیے قرآن پاک کے رسم میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.