Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جماعت فوت ہونے پر مرد کا گھر میں بیوی کی امامت کروانا کیسا؟
- Fatwa no.
- Lar-6366-a
- Issued
- 04 جمادی الثانی 1438ھ / 04 مارچ2017ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مرد مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے تو کیا گھر میں بیوی کا امام بن کر جماعت کروانے کی اجازت ہے ؟ نیز بیوی کہاں کھڑی ہوگی ؟ سائل : وصی عطاری (بھاٹی گیٹ ، مرکز الاولیالاہور )
Answer (beginning)
اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مرد مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے تو گھر میں بیوی کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس صورت میں بیوی پچھلی صف میں کھڑی ہو یا کم از کم اس کے پاؤں اس سے پیچھے ضرور ہوں، ورنہ نماز نہ ہوگی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.