Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض نماز میں امام قعدہ اخیرہ کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے تو مقتدی کیا کریں؟
- Fatwa no.
- 12231:Kan
- Issued
- 12 جمادی الثانی 1438ھ /12مارچ2017ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرضوں کی آخری رکعت میں امام تشہد مکمل کرنے کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے تو امام کے لیے کیا حکم ہے؟ ایسی صورت میں مقتدی کے لیے کیا حکم ہو گا، کیا مقتدی اس عمل میں بھی پیروی کریں گے ؟ اور اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو کیا حکم ہوگا؟
Answer (beginning)
امام ہو یا تنہا فرض ادا کرنے والا اگر تشہد کی مقدار قعد واخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدونہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے، اگر قیام ہی میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی۔ مقتدیوں کے لیے حکم یہ ہے کہ امام کھڑا ہو گیا تو یہ اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں، اگر امام لوٹ آئے تو اس کے ساتھ ہو لیں اور امام نہ لوٹا اور سجدہ کر لیا تو مقتدی سلام پھیر دیں۔ اب امام کے لیے یہ حکم ہو گا کہ ایک اور رکعت ملالے کہ یہ دو نفل ہو جائیں گی اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.