Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو میں پورے سر کا مسح نہ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 7952-Sar
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگوں کو دیکھا ہے ، وہ سر سے تھوڑی سی ٹوپی یا عمامہ ہٹا کر صرف سر کے چوتھائی حصہ کا مسح کر لیتے ہیں، پورے سر کا مسح نہیں کرتے ، تو یہ رہنمائی فرمائیے کہ پورے سر کا مسح کرنے کا کیا حکم ہے، اگر کوئی اس کے ترک کی عادت بنالے، تو کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
وضو میں چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض، جبکہ پورے سر کا مسح کرنا سنت مؤکدہ ہے ، نبی پاک صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے اس پر مواظبت (ہمیشگی ) فرمائی ہے، البتہ چند بار صرف بیان جواز کے لیے چوتھائی سر کا مسح فرمایا اور ایسا عمل جس پر نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَالله وَسَلَّمَ نے مواظبت فرمائی ہو اور چند بار بیان جواز کے لیے ترک فرمایا ہو ، وہ سنت مؤکدہ ہوا کرتا ہے ، لہذا پورے سر کا ہی مسح کیا جائے ، جان بوجھ کر بلاغذر ایک آدھ بار پورے سر کا مسح نہ کرنا بُرا ہے اور اگر عادت بنالی جائے ، تو گناہ اور استحقاق عذاب کا باعث ہو گا کہ سنت مؤکدہ کو ایک آدھ بار ترک کرنے پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.