Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ولیمے کے بارے میں چند احکام

Fatwa no.
4891 har

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ولیمہ کی حیثیت کیا ہے واجب یا سنت ؟ اور یہ کب کرنا چاہیے ؟ اور یہ کہ بعد رخصتی اگر ابھی ہمبستری نہ ہوئی ہو ، تو ولیمہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

ولیمہ کرناسنت مسحبہ ہے ، احادیث کریمہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں: ” ان عبد الرحمن بن عوف جاء الى رسول الله صلى الله تعالی علیه و سلم و به اثر صفرة فساله رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فاخبره انه تزوج امراة من الانصار قال كم سقت اليها قال زنة نواة من ذهب قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اولم ولو بشاة “ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ ان پر زعفران کا اثر تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.