Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح میں اصل نام کی جگہ Nickname ذکر کیا تو نکاح کا حکم

Answer (beginning)

مذکورہ بالا نکاح درست ہوا کیونکہ نکاح کے درست ہونے کے لیے مرد و عورت کی تعیین ہو ناضروری ہے لیکن وہ تعیین فقط شناختی کارڈ پر موجود نام کے ساتھ ہو ایسا لازم نہیں ، بلکہ 1 کسی بھی ایسے نام سے تعین ہو سکتی ہے جس سے عورت معروف ہو۔ صورت مسئولہ میں بھی عورت چونکہ ”صبا“ نام کے ساتھ معروف ہے لہذا اسی لفظ سے ہی تعیین ہو گئی اور نکاح درست ہوا۔ فتح القدیر میں علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” تزوج باسمها الذي تعرف به، حتى لو كان لها اسمان اسم في صغرها و آخر في كبرها تزوج بالأخير لأنها صارت معروفة به “ ترجمہ : عورت سے اس نام کے ساتھ نکاح کیا جائے جس کے ذریعے وہ معروف ہو، حتی کہ اگر اس کے دو نام ہوں،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.