Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نکاح نامے کی شرائط، طلاق پر جرمانہ اور مہر کی وضاحت
Answer (beginning)
شرعی اعتبار سے مہر وہ مال ہے ، جو شوہر پر عقد نکاح کے ذریعے حق زوجیت سے فائدہ اٹھانے کے بدلے واجب ہوتا ہے۔ عقد نکاح کے وقت جب مہر کی کوئی مقدار طے کر لی جائے اور وہ کم از کم مقدار شرعی ( دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی (30 گرام 618 ملی گرام)، یا اس کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد ہو اور وہ معلوم و متعین بھی ہو، تو وہی مقدار بطورِ مہر لازم ہوتی ہے۔ اس کے بعد نہ تو مرد کو اس مقررہ مہر سے کم ادا کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، اور نہ ہی عورت اس سے زیادہ کی مستحق ہوتی ہے، سوائے اس کے کہ شوہر خود اس سے زائد ادا کرنے پر راضی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.