Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اے آئی سے بنی تصویر والے کپڑے بیچنا کیسا؟
Question
اے آئی کے ذریعے جاندار کی بنی تصویر کپڑے پر ہو تو اسے بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا کپڑے کا کاروبار ہے ، بعض اوقات ٹی شرٹ پر لڑکی کی تصویر ہوتی ہے ، لیکن اسے آئی سے بنی ہوئی ہوتی ہے اور پتا نہیں ہو تا کہ یہ لڑکی اصل میں ہوگی بھی یا نہیں ، ایسی تصویر والے کپڑے کو بیچنا اور اس کا استعمال جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جاندار کی تصویر چاہے کسی طرح بھی بنائی جائے ، اگر وہ حقیقت میں پائے جانے والے جانداروں کے مشابہ اور اس کی عکاسی کرتی ہے ، تو شرعی طور پر وہ حرام تصویر کے حکم میں داخل ہوگی ۔ مثلا اگر انسان کی تصویر ہے ، اور اس میں موجود فرد کا چہرہ ، سر اور دیگر اعضاء (اگر موجود ہوں تو ان کی ساخت و ہیئت حقیقت میں موجود انسانوں کے مشابہ ہے ، تو یہ تصویر بھی ناجائز و حرام قرار پائے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.